مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج: شی جن پنگ کا مصر میں نیا سفارتی محاذ
قاہرہ: چین کے صدر شی جن پنگ کے مصر کے دورے نے مشرقِ وسطیٰ میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے بیجنگ کے بڑھتے ہوئے چیلنج کو نمایاں کر دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شی جن پنگ ایک ایسے وقت میں مصر پہنچے ہیں جب ایران جنگ اور خطے کی مسلسل کشیدگی نے روایتی امریکی اتحادوں اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔صدر شی نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات میں چین اور مصر کے درمیان سیاسی، معاشی اور سکیورٹی تعاون مزید گہرا کرنے پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 70 سال مکمل ہو رہے ہیں، جبکہ مصر پہلے ہی چین کے ساتھ جامع سٹریٹجک شراکت داری رکھتا ہے۔بیجنگ مصر کو محض ایک معاشی شراکت دار نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی و سفارتی دروازے کے طور پر دیکھتا ہے۔ سوئز کینال اکنامک زون، انفراسٹرکچر، صنعتی منصوبوں، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سپلائی چین میں چینی سرمایہ کاری اس بڑھتے ہوئے تعلق کی بنیاد ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں دونوں ممالک کی تجارت 11.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں بیرونی مداخلت کی مخالفت اور علاقائی ممالک کو اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ چین خطے میں خود کو ایک متبادل سفارتی اور معاشی قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ مصر بھی امریکہ پر مکمل انحصار کے بجائے چین سمیت متعدد طاقتوں کے ساتھ تعلقات متوازن کرنے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔یوں شی کا دورہ صرف چین مصر تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں نئی جغرافیائی سیاست، امریکی اثر و رسوخ اور چین کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک اہم علامت بن کر سامنے آیا ہے۔




