لندن میں زرداری اور محسن نقوی کی ملاقات، نئی صوبائی بحث نے سیاسی قیاس آرائیاں بڑھا دیں

صدر آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے لندن میں ملاقات کی، جس میں قومی سلامتی، امن و امان اور نئے صوبوں سے متعلق بحث کے تناظر میں پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لندن: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی لندن میں ملاقات نے ملک کے سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں ملکی امن و امان، قومی سلامتی، مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ محسن نقوی نے صدر زرداری کو اپنی حالیہ مصروفیات اور اہم قومی معاملات سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں شخصیات اس وقت برطانیہ میں موجود ہیں، تاہم ان کے دوروں کی نوعیت الگ بتائی گئی ہے۔ لندن میں ان کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان میں انتظامی اصلاحات، سیاسی استحکام اور نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ دوبارہ سیاسی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ محسن نقوی اس سے قبل تمام سیاسی جماعتوں پر زور دے چکے ہیں کہ نئے صوبوں سمیت اہم قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔

دوسری جانب لندن میں محسن نقوی کی موجودگی کا ایک نمایاں پہلو پاکستان کرکٹ ٹیم سے متعلق سرگرمیاں بھی ہیںجبکہ کنگ چارلس (سابقہ ​​شہزادہ چارلس) نے حال ہی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہمراہ محسن نقوی سے ملاقات کی، پاکستان ہاؤس میں قومی ٹیم کے اعزاز میں تقریب میں ان کی شرکت اور برطانوی شاہی خاندان کے ساتھ متوقع مصروفیات نے ان کے دورے کو سیاسی، سفارتی اور کھیلوں کے تینوں حوالوں سے اہم بنا دیا ہے۔ زرداری اور نقوی کی بیک وقت لندن موجودگی اور ملاقات نے سیاسی حلقوں میں یہ سوال ضرور اٹھایا ہے کہ کیا مستقبل میں حکومتی ڈھانچے، قومی سلامتی یا انتظامی اصلاحات سے متعلق اہم فیصلوں پر کوئی نئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، تاہم فی الحال ایسی کسی ڈیل یا فیصلے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 236