تہران: ایران کی معیشت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جہاں ایرانی ریال امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ریال سے تجاوز کر گئی، جس سے ملکی کرنسی پر مسلسل دباؤ نمایاں ہوتا ہے۔ ریال کی تیزی سے گرتی قدر نے درآمدی اشیا، خوراک، ادویات اور صنعتی خام مال کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ چونکہ درآمد کنندگان کو غیر ملکی کرنسی کے حصول کے لیے زیادہ ریال خرچ کرنا پڑ رہا ہے، اس کا براہِ راست اثر صارفین کی قوتِ خرید اور روزمرہ اخراجات پر پڑ رہا ہے۔ایران پہلے ہی امریکی پابندیوں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹ، جنگی اخراجات اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ رائٹرز کے مطابق جولائی میں سالانہ افراطِ زر 66 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جبکہ اگست میں ریال مزید کمزور ہوا۔
حالیہ امریکی ایرانی کشیدگی نے بحران کو مزید گہرا کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تعطل اور تیل کی برآمدات پر دباؤ ایران کی زرمبادلہ آمدنی کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے ریال پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کرنسی کی گراوٹ برقرار رہی تو مہنگائی، درآمدی اشیا کی قیمتوں اور عام ایرانی شہریوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔




