خلیجی جنگ کا بڑا مالی اثر، پاکستانی سرمایہ دبئی سے واپس پاکستان منتقل ہونے لگا
خلیج میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی نے دبئی کی طویل عرصے سے پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھی جانے والی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی پراپرٹی اور کرنسی مارکیٹ سے وابستہ ذرائع کے مطابق دبئی جانے والے نئے سرمائے کے بہاؤ میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ پہلے سے وہاں موجود کچھ سرمایہ واپس پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں بعض پاکستانی سرمایہ کار دبئی کی جائیدادیں فروخت یا سرمایہ کاری کو محدود کرکے پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر، خصوصاً کراچی، میں سرمایہ منتقل کر رہے ہیں۔ اس رجحان کو خلیجی جنگ، آبنائے ہرمز میں تجارتی رکاوٹوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے جوڑا جا رہا ہے۔
دبئی کی معیشت پر جنگ کے اثرات بھی واضح ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اگست کے آخر میں دبئی کا اسٹاک مارکیٹ انڈیکس 0.8 فیصد گرا، جبکہ املاک سے وابستہ بڑی کمپنیوں کے حصص بھی دباؤ میں رہے۔
دریں اثنا، رائٹرز کی ایک وسیع تر جائزہ رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث دبئی کی پراپرٹی سیلز میں بعض ادوار میں 80 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے شہر کی روایتی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت پر سوالات اٹھے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر علاقائی تنازع طویل ہوتا ہے تو پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے دبئی سے پاکستان کی جانب سرمایہ کاری کی یہ منتقلی ملکی پراپرٹی مارکیٹ میں نئی لیکویڈیٹی پیدا کرسکتی ہے۔




