روسی فضائی حدود خطرناک ترین مرحلے میں، زیلنسکی کا ایئرلائنز کو خبردار کرنے کے بعد پروازیں منسوخ
کیف: یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روسی فضائی حدود میں بڑھتی ہوئی ڈرون سرگرمیوں کے باعث عالمی ایئرلائنز، انشورنس کمپنیوں اور روس کے اہم ہوائی اڈوں کو استعمال کرنے والے اداروں کو سخت انتباہ جاری کردیا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روسی فضائی حدود اب شہری طیاروں کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی جا رہی ہیں اور یوکرین کی بڑھتی ہوئی ڈرون کارروائیوں کے باعث روسی آسمان عملی طور پر بند ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یوکرینی صدر نے واضح کیا کہ ان کا ملک شہری طیاروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی نہیں دے رہا، تاہم روسی سرزمین کے اندر بڑے پیمانے پر ڈرون آپریشنز نے فضائی سفر کے لیے خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ یوکرین نے اس صورتحال کے بارے میں عالمی سول ایوی ایشن تنظیم (ICAO) کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے اور دیگر ممالک سے روسی فضائی حدود سے گریز کی اپیل کی ہے۔
زیلنسکی کے مطابق ان کے انتباہ کے بعد بعض ایئرلائنز نے روسی ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں چلانے سے انکار شروع کردیا ہے۔ ماسکو کے ونوکووو ایئرپورٹ کے لیے پیگاسس ایئرلائنز نے متعدد پروازیں منسوخ کیں، جبکہ ایک پرواز سکیورٹی خدشات کے باعث متبادل راستے پر بھیجی گئی۔
تاہم ترک ایئرلائنز، ایمریٹس، اتحاد، قطر ایئرویز، ایئر انڈیا اور بعض چینی فضائی کمپنیاں اب بھی روسی فضائی حدود استعمال کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈرون جنگ کا پھیلاؤ عالمی سول ایوی ایشن کے لیے ایک نئے اور پیچیدہ سکیورٹی چیلنج کو جنم دے رہا ہے۔




