نیپال کا چین، امریکا اور بھارت سے موسمیاتی معاوضے کا مطالبہ
تباہ کن سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے بعد نیپال نے موسمیاتی انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے دنیا کے بڑے گرین ہاؤس گیس اخراج کرنے والے ممالک سے معاوضے کی اپیل کردی ہے۔ نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے چین، امریکا اور بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا ہے جن سے وہ موسمیاتی نقصانات کے ازالے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
وزیر خارجہ کا مؤقف ہے کہ نیپال کا گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں حصہ نہایت معمولی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمالیائی ملک موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات، گلیشیئرز کے پگھلنے اور شدید قدرتی آفات کا غیر معمولی نقصان برداشت کر رہا ہے۔ خانال نے کہا کہ تباہی کے بعد ملنے والی امداد کو محض خیرات کے بجائے بڑی اقوام کی ’’اخلاقی ذمہ داری‘‘ سمجھا جانا چاہیے۔ حالیہ سیلاب نے نیپال کے مختلف علاقوں کو شدید متاثر کیا، جبکہ راسووا کے قریب چین کی سرحد سے آنے والے ملبے، پانی اور برفانی تودے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوئی۔ ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
نیپال نے اس معاملے کو اقوام متحدہ کے ’’لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ‘‘ کے تناظر میں بھی آگے بڑھانے کے اشارے دیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ ان ترقی پذیر ممالک پر نہیں ڈالا جا سکتا جن کا عالمی کاربن اخراج میں معمولی حصہ ہے۔یہ مطالبہ عالمی سطح پر ’’کلائمیٹ جسٹس‘‘ کی بحث کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے کہ زیادہ اخراج کرنے والی معیشتیں موسمیاتی آفات سے متاثرہ کم اخراج والے ممالک کی بحالی میں کس حد تک مالی ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔




