اسرائیلی بستیوں پر مغرب کا شکنجہ: برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی درآمدی پابندی، اسرائیل پر دباؤ کیوں بڑھ رہا ہے؟
لندن: اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں سفارتی دباؤ کا ایک نیا مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ، فرانس اور ( مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ لندن کے ساتھ پیرس اور اوٹاوا بھی اس اقدام میں شامل ہوں گے، جبکہ دیگر یورپی ممالک نے بھی مزید کارروائی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع، آبادکاروں کے تشدد اور دو ریاستی حل کے امکانات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث کیا گیا ہے۔ برطانیہ نے صرف درآمدی پابندی تک معاملہ محدود نہیں رکھا بلکہ ایسی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کا اعلان کیا ہے جو بستیوں کی توسیع کے لیے تعمیرات، فنانسنگ، رئیل اسٹیٹ اور دیگر خدمات فراہم کرتے ہیں۔
اس اقدام کی خاص اہمیت اس لیے ہے کہ برطانیہ، فرانس اور کینیڈا اسرائیل کے روایتی مغربی اتحادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان ممالک کا بستیوں کے خلاف الگ تجارتی اقدامات اختیار کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اسرائیلی پالیسیوں پر مغربی ممالک کے اندر سیاسی اختلاف اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔
ایک مشترکہ اعلامیے میں 12 ممالک نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی بستیوں سے تجارت پر قومی پابندیاں متعارف کرانے، یورپی سطح پر اقدامات کی حمایت کرنے یا مزید اقدامات پر غور کررہے ہیں۔ ان میں برطانیہ، فرانس، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن شامل ہیں۔
اگرچہ بستیوں سے ہونے والی تجارت اسرائیل کی مجموعی معیشت کے مقابلے میں محدود ہے، لیکن اس پابندی کی علامتی اور سفارتی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ یہ اقدام اسرائیل کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مغربی حمایت غیر مشروط نہیں رہی اور مقبوضہ علاقوں میں پالیسیوں کے نتیجے میں اقتصادی قیمت بھی بڑھ سکتی ہے۔
اسرائیلی حکام نے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں اسرائیل اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب پابندیوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اقتصادی دباؤ کا مقصد اسرائیل کو سزا دینا نہیں بلکہ بستیوں کی توسیع روکنا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو محفوظ رکھنا ہے۔
یوں اسرائیلی بستیوں کے خلاف یہ تجارتی محاذ ایک بڑے عالمی سوال کی شکل اختیار کر رہا ہے: کیا محدود اقتصادی پابندیاں اسرائیل کی پالیسی تبدیل کرنے کے لیے کافی ہوں گی، یا مغربی ممالک مستقبل میں اس سے بھی سخت اقدامات کی طرف جائیں گے؟




