جرمنی نے وسیع محصولات کی حمایت کردی
( مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی عدم توازن اور غیرمنصفانہ مسابقت سے نمٹنے کے لیے زیادہ سخت پالیسی اختیار کی جائے، جس میں ضرورت پڑنے پر وسیع تر محصولات بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ جرمنی طویل عرصے تک چین کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات کا سب سے بڑا یورپی حامی رہا ہے، مگر اب برلن کو چینی صنعتی طاقت کے اثرات اپنی معیشت پر زیادہ نمایاں محسوس ہورہے ہیں۔
یورپی یونین کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 2025 میں تقریباً 360.6 ارب یورو تک پہنچ گیا، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں یہ مزید 9 فیصد بڑھا۔ یورپی حکام کو خاص طور پر چینی الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، ٹیکسٹائل اور پلاسٹک کی بڑھتی برآمدات پر تشویش ہے۔
جرمنی کے اقتصادی جائزے میں بھی چینی سبسڈائزڈ زائد پیداواری صلاحیت، مارکیٹ تک محدود رسائی اور برآمدی پابندیوں کو عالمی تجارتی عدم توازن کی وجوہات میں شمار کیا گیا ہے۔ برلن کا مؤقف ہے کہ اگر چینی صنعت کو سرکاری معاونت کے ذریعے ضرورت سے زیادہ پیداوار پر آمادہ کیا جائے اور پھر یہ مصنوعات یورپی منڈیوں میں کم قیمت پر آئیں تو یورپی کمپنیوں کے لیے مسابقت غیرمساوی ہوجاتی ہے۔
یہ دباؤ جرمن آٹو انڈسٹری کے لیے خاص طور پر حساس ہے۔ ووکس ویگن سمیت جرمن صنعت کو چینی کمپنیوں کی تیز رفتار تکنیکی ترقی اور کم لاگت پیداوار سے بڑھتے مقابلے کا سامنا ہے۔ ووکس ویگن نے حالیہ عرصے میں چینی مسابقت، اضافی پیداواری صلاحیت اور عالمی ٹیرف دباؤ کو اپنی بڑی مشکلات میں شمار کیا ہے۔
تاہم جرمنی مکمل تجارتی جنگ نہیں چاہتا۔ برلن بیک وقت چین کے ساتھ مکالمہ، باہمی مارکیٹ رسائی اور منصفانہ مقابلے پر زور دے رہا ہے۔ جرمن کاروباری حلقے بھی ہدفی اور WTO کے مطابق اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، مگر خبردار کرتے ہیں کہ اندھا دھند محصولات یورپی کمپنیوں اور صارفین کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا یورپ چین کو تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتا ہے یا خود اپنی صنعتی مسابقت بہتر بنائے گا۔ اگر برسلز وسیع تر ٹیرف راستہ اختیار کرتا ہے تو چین-یورپ اقتصادی تعلقات ایک نئے تجارتی محاذ میں داخل ہوسکتے ہیں۔




