چین نے شہریوں کا بیرونِ ملک سفر سخت کردیا؛ ٹیکنالوجی ماہرین پر خصوصی نظر
(مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے قومی سلامتی، صنعتی تحفظ اور حساس ٹیکنالوجی کے دفاع کے نام پر اپنے شہریوں کے بیرونِ ملک سفر سے متعلق نئے سخت ضوابط نافذ کردیئے ہیں۔ 15 ستمبر 2026 سے نافذ ہونے والے نئے قوانین کے تحت چینی حکام کو مخصوص حالات میں شہریوں کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔
نئے قواعد کے مطابق اگر کوئی چینی شہری برآمدی کنٹرول یا ٹیکنالوجی کی درآمد و برآمد سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرے اور اس سے قومی صنعتی یا تکنیکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو اسے بیرونِ ملک جانے سے روکا جاسکتا ہے۔ ایسی پابندی چھ ماہ سے تین سال تک جاری رہ سکتی ہے۔ بیرونِ ملک ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد پر بھی واپسی کے بعد دوبارہ سفر کی پابندی عائد ہوسکتی ہے جنہیں چینی قومی سلامتی یا مفادات کے لیے نقصان دہ سمجھا جائے۔
یہ قانون خاص طور پر سائنسی، تکنیکی اور حساس شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے۔ عالمی سطح پر چین اور امریکا کے درمیان سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی پر بڑھتی کشمکش کے تناظر میں ماہرین اسے حساس ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کے بیرونِ ملک اخراج کو محدود کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
نئے ضوابط کے تحت امیگریشن حکام بعض معاملات میں شناخت اور سفر کے مقصد کی تصدیق کے لیے دستاویزات، اضافی معلومات اور الیکٹرانک ڈیٹا بھی طلب کرسکتے ہیں۔ غلط معلومات یا جعلی دستاویزات فراہم کرنے والوں کے خلاف داخلے یا خروج کی اجازت مسترد کی جاسکتی ہے۔
چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ اور بیرونِ ملک سفر کے خطرات کم کرنے کے لیے ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق نئے اختیارات بیجنگ کو شہریوں کی بیرونِ ملک سرگرمیوں پر مزید کنٹرول دے سکتے ہیں۔




