صوفیہ حیات: روہت شرما کرکٹ کے تو ‘GOAT’ہیں لیکن بستر پر بالکل اچھے نہیں ہیں

یہ وائرل جملہ بھارتی کرکٹر روہت شرما اور اداکارہ و ماڈل صوفیہ حیات کے ناموں کو جوڑتا ہے، لیکن اسے خبر کے طور پر پیش کرنے سے پہلے اصل انٹرویو، ویڈیو یا معتبر خبر کی تصدیق ضروری ہے۔ کسی شخص کی نجی زندگی اور جنسی کارکردگی سے متعلق غیر مصدقہ بات کو حقیقت کے طور پر دہرانا مناسب نہیں۔

صوفیہ حیات کا روہت شرما سے تعلق: انسٹاگرام پر وائرل پوڈکاسٹ نے پھر چھیڑ دی پرانی کہانی

(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی کرکٹ اسٹار روہت شرما اور سابق ماڈل و اداکارہ صوفیہ حیات کے مبینہ تعلقات ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔ صوفیہ کے حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو کے مختصر کلپس انسٹاگرام پر گردش کر رہے ہیں، جن میں انہوں نے روہت کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلق اور اس کے اختتام سے متعلق دعوے کیے۔

صوفیہ کے مطابق، دونوں کے درمیان 2012 میں تعلق قائم ہوا تھا اور وہ تقریباً ایک سال تک ایک دوسرے کے قریب رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ابتدا میں کرکٹ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں، تاہم اپنے مینیجر کے ذریعے وہ اس کھیل سے وابستہ ہوئیں اور اسی دوران روہت سے ملاقات ہوئی۔

صوفیہ نے دعویٰ کیا کہ روہت نے ایک موقع پر میڈیا کے سامنے انہیں صرف اپنی مداح قرار دیا، جس پر وہ ناراض ہوئیں اور انہوں نے روہت کو بلاک کر دیا۔ اسی گفتگو میں ان کے مبینہ ذاتی تبصرے نے بھی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کی۔

یہ معاملہ اب انسٹاگرام پر مختصر ویڈیوز، تبصروں اور بحث کی صورت میں پھیل رہا ہے۔ تاہم روہت شرما کی جانب سے اس مبینہ تعلق یا صوفیہ کے حالیہ دعوؤں پر کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس لیے ان باتوں کو صوفیہ کا مؤقف سمجھنا چاہیے، نہ کہ ثابت شدہ حقیقت۔

روہت شرما 2015 میں ریتیکا سجدے سے شادی کر چکے ہیں۔ صوفیہ کے تازہ بیان نے ماضی کی اس کہانی کو دوبارہ خبروں میں لا کھڑا کیا ہے، مگر اس کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے دونوں جانب کے مستند مؤقف اور اصل انٹرویو کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

jawad butt journalist | لمحہ نیوز
Jawad Butt

ٹیلی ویژن نیوز، حالاتِ حاضرہ، نیوز روم کی قیادت، ڈیجیٹل سٹوری ٹیلنگ، سوشل میڈیا اینالیٹکس، کارپوریٹ کمیونیکیشنز اور ادارتی حکمتِ عملی کے شعبوں میں 20 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والے میڈیا ایگزیکٹو؛ جنہوں نے جیو نیوز، دنیا نیوز، آج نیوز، واپڈا، ایس این جی پی ایل اور تعلیمی و تدریسی اداروں کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

Articles: 241