لاہور (ویب ڈیسک) صحافی رؤف کلاسرا لکھتے ہیں کہ میکاولی کے دور اور آج کے جدید جمہوری ادوار میں فرق واضح ہے، اور اب لوگ رعایا نہیں رہے بلکہ وہ اپنے حکمران خود چنتے اور اُنہیں اپنے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔
رؤف کلاسرا نے اپنے کالم میں استدلال کیا ہے کہ قدیم نظمِ حکومت کی روایت تبدیل ہو چکی ہے۔ اُن کے الفاظ کے مطابق ’’میکاولی کے دور اور آج کے جدید جمہوری ادوار میں بہت فرق ہے‘‘ اور اِس تبدیلی کی نشان دہی یہ ہے کہ عوام اب محض رعایا نہیں رہی۔
کلاسرا نے کہا ہے کہ شہری خود اپنے حکمران منتخب کرتے ہیں اور اُنہیں جوابدہ ٹھہراتے ہیں، بصورتِ دیگر انہیں گھر بھی بھیج دیتے ہیں۔ اس نظریے کے پس منظر میں انہوں نے جمہوریت کے وہ بنیادی عناصر بھی اجاگر کیے جن میں احتجاج اور مظاہرے شامل ہیں، جنھیں انہوں نے ایک آئینی حق قرار دیا ہے۔
کالم میں برصغیر کے موجودہ طرزِ حکمرانی کا تقابلی حوالہ بھی موجود ہے جس میں شہری شمولیت، جوابدہی اور عوامی احتساب کو جدید جمہوری عہد کی خصوصیات قرار دیا گیا۔ کلصرا کی یہ رائے اس بحث میں حصہ ڈالتی ہے جو ملکوں میں سیاسی روایات، عوامی حقوق اور حکومتی جوابدہی کے معاملے پر زیرِ بحث رہتی ہے۔




