سعودی عرب پر حملہ ریڈ لائن؛ پاکستان کا ایران کو سخت پیغام
مشرقِ وسطیٰ میں جاری وسیع تر جنگ کے درمیان پاکستان نے ایران کو ایک انتہائی اہم سفارتی پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف مزید جارحیت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ اسلام آباد کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب کے متعدد شہروں میں فوجی اور تیل کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے۔
پاکستان کی تشویش محض سعودی عرب کی سلامتی تک محدود نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق خطے میں جنگ کے پھیلاؤ سے بھی ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق اگر جارحیت سعودی سرزمین تک پھیلتی ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان موجود دفاعی انتظام فعال ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ملک پر جارحیت کو تینوں ممالک پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔ تاہم اسلام آباد نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کا ممکنہ فوجی کردار سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود ہوگا۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے غیر معمولی سفارتی توازن کا امتحان بھی ہے۔ اسلام آباد ایک طرف ایران کے ساتھ ہمسایہ اور تاریخی تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے دفاعی، معاشی اور تزویراتی روابط ہیں۔ اسی لیے پاکستان کا تازہ پیغام براہِ راست جنگ میں کودنے کے بجائے جارحیت کو سعودی سرزمین تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران سرکاری طور پر حوثیوں پر براہِ راست کنٹرول کی تردید کرتا ہے، جبکہ مختلف ذرائع ایران کی جانب سے حوثی حملوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت کی اطلاعات دے رہے ہیں۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ یمن کا محاذ سعودی عرب تک پھیل کر ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر لے۔ سعودی تیل تنصیبات، بحیرۂ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیجی جہاز رانی پہلے ہی عالمی توانائی منڈی کے لیے حساس مقامات ہیں۔ حالیہ کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر دھکیلنے کے خدشات پیدا کیے ہیں۔یوں پاکستان کا “ریڈ لائن” پیغام صرف ایران اور حوثیوں کے لیے انتباہ نہیں بلکہ خطے کو ایک نئی، زیادہ وسیع جنگ سے بچانے کی سفارتی کوشش بھی ہے۔




