جوہری ہتھیار؛ طاقت کا مرکز یا جنگ سے بچاؤ کی ضمانت؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ ریمارکس نے عالمی سیاست میں ایک پرانے مگر اہم سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے: کیا ( مانیٹرنگ ڈیسک) جوہری صلاحیت کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات کم کر دیتی ہے؟ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو وہ تہران پر بمباری کے بجائے ایرانی سپریم لیڈر کو فون کرکے خوشگوار انداز میں بات کرنے کو ترجیح دیتے۔ یہ بیان اگرچہ سیاسی تناظر میں دیا گیا، لیکن اس کا ایک وسیع تر تزویراتی مفہوم بھی نکلتا ہے۔ سرد جنگ سے لے کر آج تک جوہری طاقت رکھنے والی ریاستوں کا بنیادی تصور یہی رہا ہے کہ جوہری بازداریت دشمن کو مکمل جنگ یا براہِ راست حملے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ممالک جوہری صلاحیت کو محض ہتھیار نہیں بلکہ قومی بقا، خودمختاری اور دفاعی ضمانت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایران کے معاملے میں یہ بحث مزید حساس ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو خطرہ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے۔ حالیہ جنگ اور مسلسل کشیدگی نے اس بحث کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اسی دوران آئی اے ای اے بورڈ نے ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچانے کے حق میں ووٹ دیا ہے، جبکہ ایران نے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
یہ صورتحال دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک اہم سبق بن سکتی ہے۔ اگر طاقتور ریاستیں جوہری صلاحیت رکھنے والے ملک کے خلاف براہِ راست جنگ کے بجائے مذاکرات، دباؤ یا محدود کارروائی کو ترجیح دیتی ہیں، تو بعض ریاستیں یہ نتیجہ اخذ کر سکتی ہیں کہ جوہری بازداریت ان کی خودمختاری کے تحفظ کی آخری ڈھال ہے۔ تاہم یہی سوچ عالمی جوہری پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھا سکتی ہے۔ اگر ہر ملک اپنی سلامتی کے لیے جوہری ہتھیار ضروری سمجھنے لگے تو اسلحے کی دوڑ، علاقائی عدم استحکام اور حادثاتی جوہری تصادم کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔ یوں ٹرمپ کا بیان صرف ایران کے بارے میں نہیں، بلکہ مستقبل کی عالمی سلامتی کے بنیادی سوال کی عکاسی بھی کرتا ہے۔




